← شوقِ فراواں
سر پہ احساں کسی پیغام⚠️ نہیں لیتے ہیں
غیر کے ہاتھ سے ہم جام نہیں لیتے ہیں
یادِ اللہ کی ہو یا کہ شہِ دیں کا خیال
اور ہم دل سے کوئی کام نہیں لیتے ہیں
لوٹتے ہیں وہ درِ پاک پہ پھر جانے کو
اہلِ الفت کبھی آرام نہیں لیتے ہیں
اُن کے عشّاق ہیں ڈوبے ہوئے حق میں ایسے
غیرِ از نامِ خدا نام نہیں لیتے ہیں
حق کے پروانوں کا ہوتا ہے جدا سب سے حساب
نقدِ جاں دیتے ہیں وہ دام نہیں لیتے ہیں
لاکھ بے دم ہوں یہ دل والے⚠️ سہارا ہو بھی⚠️
جو سہارا ہو بد انجام⚠️ نہیں لیتے ہیں
ٹکری⚠️ آپؐ کے کٹ جاتے ہیں لیکن ساجدؔ
ثمرے⚠️ لبوں⚠️ کا الزام نہیں لیتے ہیں