← شوقِ فراواں
ہم قسم کھاتے ہیں جو عاشقِ سلطان نہیں
وہ کسی طور غلامِ شہِ کونین نہیں
بات ہے سچ کہ خدا اور نبیؐ دو ذاتیں
بعد کوئی بھی مگر دونوں کے ما بین نہیں
رنجت⚠️ و کرب سے جو حال ہے دل کا مت پوچھ
دن کو تسکین نہیں، رات کو بھی چین نہیں
حُسنِ مطلق ہے خدا بندہ مقیّد مگر
چشمِ توحید میں کیا تین کہاں تین نہیں
کوئی ادراکِ مشیّت کا نہیں کر سکتا
شاہد اس بات کا کیا مجھ⚠️ بگریں⚠️ نہیں
راہِ غم کردہ⚠️ کے رہوار کی تیزی ہے سُود⚠️
سب غلط ہے جو رو⚠️ سیّدِ دارین نہیں
ناخنِ خاص سے سمجھتے ہیں یہ عقدے ساجدؔ
اتنے آسان کوئی معنیِ قوسین نہیں