شوقِ فراواں

کوئی بھی میرا آواز نہیں ہے تو نہ ہو

ساتھ کچھ آوازیں ساز نہیں ہے تو نہ ہو

آپؐ کے بام محلّے میں اعجازِ نبوت کا⚠️

جس کو تسلیم یہ اعجاز نہیں ہے تو نہ ہو

میں تو رہتا ہوں سدا اُن کے کرم کا طالب

بادُر میری تگ و تاز نہیں ہے تو نہ ہو

اُن کی رحمت میرے کام آتی ہے پہلے بھی مدام

دل مرا حوصلہ پرداز نہیں ہے تو نہ ہو

ہم تصوّر میں پہنچ جائیں کے اُن کے در پر

کسی طیارے کی پرواز نہیں ہے تو نہ ہو

دردِ دل کے میں سناؤں گا دل میں کی فریاد

خوب اگر میری یہ آواز نہیں ہے تو نہ ہو

یادِ اُن کی ہے سہارا میرے دل کا ساجدؔ

کوئی مونس کوئی دمساز نہیں ہے تو نہ ہو