← شوقِ فراواں
فردوس ہے یہ گلشنِ زیبائے مدینہ
جنّت کا وہ حق دار ہے جو آئے مدینہ
رہتے میں ہے گُل عالم ایجاد سے بالا
فرشِ لحدِ سیّدِؐ والا مدینہ
ہر بزم میں ہے روشنیِ سلطانِ ہدیِ⚠️ کی
از شرق ہے تا غرب تجلائے⚠️ مدینہ
ممکن ہی نہیں شعلۂ نارِ اُس کے قریب آئے
جس دل میں ہے یہ داغِ تمنائے مدینہ
واللہ ہو! دیں کے تصوّر میں جو گُمّ ہیں
دن رات گھلے اُن پہ ہیں ڈرہانے⚠️ مدینہ
ہے داماں غلزار جتنا ہے بھی حسیں تر
ہم لوگ یہ کہتے ہیں میرے صحرائے مدینہ
رکھل⚠️ اُٹھتے ہیں ساجدؔ وہر⚠️ میں مری خوشیوں سے
سُفنا ہوں جو احوال دل افزائے مدینہ