شوقِ فراواں

اس گدا پر ہو عطا خواجہِ دیں تصویری⚠️ سی

اک توجہ اے شیرِ خواجہِ عرش تصوری⚠️ سی

شادمانی میں بسر ہو یہ مری عمرِ تمام

دولتِ کیف⚠️ جو بھولے کہیں جائے تصوری⚠️ سی

آپؐ چاہیں تو جہاں بھر کو کافی ہو

گو کہ مقدار میں ہو نان و جویں⚠️ تصوری⚠️ سی

ہو مری جانِ چراغاں مرا دل پیچگا⚠️ نور

گر ملے روشنی ماہِ تبیں⚠️ تصوری⚠️ سی

اس سے بڑھ کر کوئی دولت ہے کہاں دنیا میں

بیٹھنے والا سرودِ⚠️ دیں! تصوری⚠️ سی

نور ڈر پاک سے مرے قالب و جاں جائیں

گر ڈریں⚠️ جائے کہیں بھی جبیں⚠️ تصوری⚠️ سی

اُن کی بخشش کی کوئی حد نہیں ہے ساجدؔ

بھیک جب دیتے ہیں دیتے ہیں نہیں تصوری⚠️ سی