اُن کی یاد اُن کا خیال

دل میں اِک اُن کی محبت چاہیے

رات دن مستی کی حالت چاہیے

دائم مصطفیٰ کا نام ہو

لب کو اُن کا فیضِ نسبت چاہیے

ہر گھڑی چشمِ تصوّر میں مجھے

اُن کی دل افروز صورت چاہیے

اہلِ عالم کی نہیں پروا مجھے

مہرباں وہ چشمِ رحمت چاہیے

زندگی کا ہے مری مقصود یہ

شاہِ عالم تسی اطاعت چاہیے ⚠️

اُن کے در پر حاضری ہر سال ہو

مجھ پہ یہ اُن کی عنایت چاہیے

اے خدا! اُن کی نوازش ہو مدام

تیرے ساجدؔ کو یہ نعمت چاہیے