اُن کی یاد اُن کا خیال

دل میں نجومِ کیف و مسرّت ہے اِن دنوں

چشمِ کرم کی خاص عنایت ہے اِن دنوں

اُن کا خیال اُن کی نوازش ہے، شکرِ حق

صد رونقِ چمن مری خلوت ہے اِن دنوں

اُن کی عنایتوں سے مقدّر ہے سرخوشی

دل کو سکون، جان کو راحت ہے اِن دنوں

اُن کی حسین یاد ہے دل میں بسی ہوئی

قسمت میں بے بہا مری دولت ہے اِن دنوں

دنیا کے رنج و غم سے ہے آزاد دل مرا

مائل اُدھر وہ دیدۂ رحمت ہے اِن دنوں

احباب کے ہجوم میں بھی خلوتی ہوں میں

بے کاروں، کہاں مگر فرصت ہے اِن دنوں ⚠️

ساجدؔ کرم سے خاص ہے میرے کریم کا

پہلے نہیں کبھی تو خوب جو حالت ہے اِن دنوں ⚠️