اُن کی یاد اُن کا خیال

بقولِ من رآنی ہے عیاں ہم پر ہُوا واللہ

ہے اُن کو دیکھنا گویا خدا کو دیکھنا واللہ

وہی ذاتِ احد جو باطنا معبودِ عالم ہے

یقینی اس کی ہے ظاہر بذاتِ مصطفیٰ واللہ

نہیں ہیں وہ خدا ہرگز مگر واصلِ خدا ہیں

خدا سے ہے وجود اُن کا وجودِ حق نما واللہ

مری چشمِ تصوّر میں رہے وہ صورتِ زیبا

وہی مقصودِ جاں میرا وہی ہے مُدّعا واللہ

خدا مطلق ہے اور پابند صورت شان اس کی ہے

بشکلِ مصطفیٰ شانِ اتم ہے رونما واللہ

زبان اظہار سے ہے تنگ اور حرف و بیاں قاصر

ہے ذاتِ حق سے قُرب اتنا رسول اللہ کا واللہ

خداوندا! تری توفیق سے ساجدؔ ثنا خواں ہے

تری تائیدِ رحمت سے یہ ہے لغوِ سرا واللہ