← اُن کی یاد اُن کا خیال
مجھ پر نگاہِ اُن کی برنگِ دگر ہے آج
وہ کیفیت کبھی نہ ہوئی جس قدر ہے آج
ہر اِک جمیل شے تو مرا دل ہے شیفتہ
بے تاب اُن کی دید کو ذوقِ نظر ہے آج
جیسے الٹ دیا ہے انہوں نے نقابِ رنج
دو چند یوں جو حُسن و جمال سحر ہے آج
اس چشمِ التفات کے ہیں زاویے کئی
کل تھی ادھر کرم کی نظر اور ادھر ہے آج
وہ فرد فرد اُن کی عطا کے ہیں سلسلے
کل جو گدائے راہ تھا وہ تاجور ہے آج
پہلے سے ہیں زیادہ ستارے نگاہ میں
حیراں ہوں اس قدر مری کیوں چشمِ تر ہے آج
ساجدؔ کھلا ہے راز بفیضِ شہِ رسل
میری نظر میں اور بھی حُسنِ بشر ہے آج