اُن کی یاد اُن کا خیال

بشر کا اوڑھے ہوئے دلنشیں نقاب آیا

خدا کے نور کا پیکر وہ لاجواب آیا

حقیقت اہلِ نظر پر عیاں ہوئی کھُل کر

دلیل بن کے جو آپ اپنی آفتاب آیا

بھینٹ آیا سکوں دل کو یاد سے اُن کی

انہیں بھلایا تو اک سیلِ اضطراب آیا

برنگِ صبح مری جان ڈھل کے صاف ہوئی

نظر کے سامنے رحمت کا جب وہ باب آیا

جو اُن کی بزم میں پہنچا وہ کامراں ہوا

جو اُن کی بزم سے لوٹا وہ کامیاب آیا

بچا جو اُن کی نظر میں عزیزِ خلق ہوا

بابلاں مقام بلاں آیا، بوتراب آیا ⚠️

ہے اس کا ذوقِ طبیعت بہت حسین ساجدؔ

پسند دل سے مجھے دوسن آنجناب آیا ⚠️