← اُن کی یاد اُن کا خیال
جلوۂ ذاتِ احد کی میں وہ صورت دیکھوں
گرد و پیش اپنے میں آئینۂ حیرت دیکھوں
ہوں کھڑا چشمِ نوازش کا اشارہ پائے
اس برس بھی سفرِ بحرِ زیارت دیکھوں
کب اُترتی ہے مرے دل میں نظرِ رحمت کی
ملتفت ہوتی ہے کب چشمِ عنایت دیکھوں
مرحبا، رات مری صبح بہاراں ہو جائے
خدا! میری چمک اُٹھے یہ قسمت دیکھوں
آج اس مت مدینے کی ہوا کا ہے گزر
ہر ہر چہرے پہ میں جلوۂ رحمت دیکھوں
راہِ تاریک مری کاہکشاں کب ہوگی
رنگ کب لائے گی اُن سے مری نسبت دیکھوں
کاش کھل جائے مرا دیدۂ باطن ساجدؔ
میں جدھر دیکھوں اُدھر نورِ حقیقت دیکھوں