اُن کی یاد اُن کا خیال

حبیبِ حق کو اگر ہم صدا دیئے ہوتے

انہوں نے لطف کے دریا بہا دیئے ہوتے

نبیؐ کے فیض سے ہوتے بحال دوبارہ

ہزار غم نے دل و جاں جلا دیئے ہوتے

یہ⚠️ محشر ہے فقط اُن کی چشمِ رحمت پر

خزانے آن میں لاکھوں لگا دیئے ہوتے

زیارتِ رُخِ روشن ہمیں بھی ہو جاتی

ہمیں⚠️ بھی جامِ طرب کے پلا دیئے ہوتے

رہو نبیؐ میں نہیں شرک نام کی کچھ⚠️ شے

صنم جو ذہن میں ہیں سب گرا دیئے ہوتے

وجود ایک ہے موجود بھی ہے ایک فقط

جو درمیاں ہیں حجابات اُٹھا دیئے ہوتے

نفیس⚠️ شے نہیں ساجدؔ خدا بھی مل جاتا

جو دل سے غم⚠️ کے پردے اُٹھا دیئے ہوتے