اُن کی یاد اُن کا خیال

دل کی آبادی کا سامان اُن کی یاد اُن کا خیال

ہے مرے ایمان کی جاں، اُن کی یاد اُن کا خیال

مصحفِ⚠️ رُخ کی تلاوت ہو مجھے دائم نصیب

ہر گھڑی ہو زمزمہ⚠️ خواں اُن کی یاد اُن کا خیال

نامِ اُن کا چارۂ صد کلفت⚠️ و آلام ہے

اضطراب و غم کا درماں اُن کی یاد اُن کا خیال

ہے تصوّر اُن کا جس سے ظلمتیں کافور ہیں

راستے کرتی ہے آسان اُن کی یاد اُن کا خیال

قربِ حق ہو گا فروغِ⚠️ لاریب اس درجہ ترا

جس قدر ہو گی نمایاں اُن کی یاد اُن کا خیال

روح کی دنیا ہے روشن اُن کے ذکرِ پاک سے

دل کو رکھتی ہے درخشاں اُن کی یاد اُن کا خیال

شاہ سے نسبت ہے ساجدؔ نعمتِ حق بے بدل

کھولتی ہے بابِ عرفاں اُن کی یاد اُن کا خیال