← اُن کی یاد اُن کا خیال
آبِ رحمت کا نوشِ⚠️ جام کریں
وردِ صلِّ علیٰ مدام کریں
آمد و رفت یوں رہے دائم
عمر اس راہ پر تمام کریں
اسم ہے کب جدا مسمّیٰ سے
دل میں پیوست یہ کلام کریں
لب پہ اکثر رہے درود و سلام
یوں چشمِ⚠️ دہر زیرِ دام کریں
وہ ہیں جامعِ وجوب و امکاں کے
حق کی شمشیر بے نیام کریں
اُن کا احسان ہے زمانے پر
اُن کے کوچوں کو بھی سلام کریں
اُن کا چرچا ہو گو⚠️ بلو⚠️ ساجدؔ
اُن کی باتوں کا ذکرِ عام کریں