اُن کی یاد اُن کا خیال

یہ التفاتِ نظر ہے فقط نصیب کی بات

ہے دور کی یہ حکایت نہ ہے قریب کی بات

نہیں ہے خوف ہمیں کوئی روزِ فردا کا

خدا نہیں ہے کبھی ٹالتا⚠️ حبیبؐ کی بات

فلک پہ اب بھی ہے موجود جسمِ روح اللہ

ہے نادرست ارے ناسمجھ صلیب کی بات

وہ دن وہ راتیں کہ جب دل میں اک قیامت تھی

نہ چھیڑ⚠️ بھول کے بھی اُس غمِ مصیب⚠️ کی بات

نبیؐ کے شہر کا یہ نام ہی نہیں لیتا

کبھی نہ دل میرا مانے گا اس طبیب کی بات

جمالِ حق کا نہیں محور نظر جس کا

مجھے سنائیں نہ اُس شاعر و ادیب کی بات

خدا کا شکر ادھر ملتفت⚠️ ہیں وہ ساجدؔ

ہے اُن کے مدِّ نظر اب مرے نصیب کی بات