ذوقِ جمال

شبِ دل پر نام ہو ہی جائے گا

ذکر صبح و شام ہو ہی جائے گا

رحمتِ حق سے سبھی بنتے ہیں کام

اپنا بھی کام یوں ہی جائے گا

مصطفیٰؐ کی راہ پر ہم ہیں رواں

ہم پر بھی انعام ہو ہی جائے گا

آپؐ کے ہوتے ہمیں کیا فکر ہے

لطف سے پُر جام ہو ہی جائے گا

رات وہ اُن کے تصور میں خوشا⚠️

فصلِ حق اکرام ہو ہی جائے گا

مجھ بھی نبیؐ، حق کا نشاں ملتا نہیں

عام یہ پیغام ہو ہی جائے گا

میں ہوں ساجدؔ غوثِ اعظم کا مرید

میرا نیک انجام ہو ہی جائے گا