ذوقِ جمال

عالمِ ایجاد میں ہر سُو ہے چار نور کا

سیّد و سرور، شہِ دیں ہیں سرایا نور کا

حُسنِ عالم ہیں محمدؐ اور اُن کی آلِ پاک

سارے عالم کی ہے آبادی گھرانا نور کا

ہر ولایت میں ہو شاہی مصطفیٰؐ کے دیں کی

حشر تک لہرائے عالم میں پھریرا نور کا

جسِ کی خوشبو سے معطر ہو⚠️ اب طیبِ فضا

جوہر نفحات تھا کیا ‌دیا وہ پینا نور کا

دو جہاں اُن کے بمالِ⚠️ حق نُما پر ہیں فدا

خوب ہے کیا زندِ روحِ⚠️ افزا، کُل ہے زیبا نور کا

کچھ ریاض و زبد⚠️ کا ہونا نہیں ہے لازمی

جب خدا چاہے نظر آتا ہے رستا نور کا

حال اُنت⚠️ دیکھ کر روتا ہے ساجد رات دن

کاش پر جائے ادھر بھی ایک چھینا نور کا