← ذوقِ جمال
کہاں اندازہ وانِ کے دامنِ رحمت کا
ہر اک سر پر ہے سایہ آپ کے دستِ عنایت کا
غمِ واندہ سے ہے حال کیوں پھرتے ہیں یہ ناداں
نبی کا نام اقدس جام ہے مشروبِ رحمت کا
زیارت کو شہرِ دین کے دراقدس پہ ہم جائیں
یہی نسخہ شفاء کا ہے ، یہی پیغامِ صحت کا
خدا کا شکر ہے ، دلِ کو توسُّلی ، جاں کو راحت ہے
خوشا⚠️ پہلے سے افزوں ترہے شوقِ اُن کی زیارت کا
فقط اِخلاص ہے درکارِ راہِ عشق و مستی میں
نہیں زنہار اِس جام کام کچھ زہد و ریاضت کا
بچرِ محبوبِ حق ، حق تک رسائی ہو نہیں سکتی
نشاں ہے خاص ، دل پر داغِ اُن کی پاک نسبت کا
فقط خوشنودی حق ہو ترا مقصود جانِ ساجدؔ
خیال آئے تو ذرا سا بھی نہ دل میں باغِ جنت کا