ذوقِ جمال

رات دن سوگوار پھرتے ہیں

ہم بہت بے قرار پھرتے ہیں

شاہِ عالم کے در پہ لیل و نہار

دہر کے تاجدار پھرتے ہیں

جن کے لب پر درودؐ ہے اکثر

بن کے موجِ بہار پھرتے ہیں

اُن کی تعمیلِ حکم کی خاطر

جاں بکف، جانثار پھرتے ہیں

قدسیاں اُن کے در پہ شام و سحر

بے حد و بے شمار پھرتے ہیں

سیّدِ امنیا⚠️ کی گلیوں میں

نعت گو صد ہزار پھرتے ہیں

کوئی مانع کہ ہو گدا ساجدؔ

آپؐ کے نقشِ خوار پھرتے ہیں