← ذوقِ جمال
نُور قدم کی بات تھی بزم میں یوں درآئی کیوں
جوتی⚠️ گرہ و قدیم کی کُھل کے عنچن میں آئی کیوں
ہوتی ہیں لے مسافریں منزلِ حق کی جاں سے
بُلغہ کہاں ہے خار سے، شکوہ آبلہ پائی کیوں
غیر از رسولؐ، بمل کب حلقِ خلق کی ہور رسائی
غیراز وسیلہ ذات تک خلق کی ہور رسائی کیوں
خورِ حسن پر فدا، خلد ہے جو شیفتہ
زلبہ⚠️ پُر ہوں کی ہو آپؐ سے آشنائی کیوں
جس کو خدا نے دل دیا کام ہے اُس کا عشق ہو
جس کی سزا ہو عمر قید اُسے کو ملے رہائی کیوں
چلے کا حوصلہ نہ تھا اُس سے کوئی یہ پُوچھتے تو
شمع⚠️ کے نیر تو پہ پھر اُس پر نظرِ جمائی کیوں
آج ہے ساجدؔ اپنا دم قیدی دردِ غم و غم
عمر تمام جھیل میں ہم نے عبادت گنوائی کیوں