ذوقِ جمال

جلوہ حق سے ہیں دہ موجود، اِس سے کم نہیں

یاد جس دل میں ہیں اُن کی، اُس کی کوئی تم نہیں

فتح و نصرت دائما پہنچے سرکارؐ کے

ہو گیا جو جھنم کبھی وہ آپؐ کا پرچم نہیں

راس آئے دین اُسے جو راتی پر ہے فدا

راہگزار دیں میں منزل تک ذرا بھی غم نہیں

کوئی بھی محبوبِ حق پر غالب آسکتا نہیں

کوئی ہو اُن کے مقابل یہ کسی میں دم نہیں

شاہِ دیں کا بندہ حق سے مشغول آنکھوں پھیر

وہ بھی کیا آبہو جو ہو لُطفِ گرم رم⚠️ نہیں

مصطفیؐ کے شہرِ اقدس کا ہے آب، آبِ حیات

ہو نہ تشنے کے خودی⚠️ طیبہ کا وہ موم نہیں

اس میں آتی ہیں نظر ارض و آسماں کی وسعتیں

یہ ہے دل موسٰی⚠️ کا ساجدؔ، کوئی جام مہ نہیں