ذوقِ جمال

اس سال ہم بھی ہبرِ نبیؐ کا سفر کریں

آشفتگی کے حال میں تا کے گذر کریں

نُور نبیؐ حقیقت کہیے یا وثوق

کہیے کبھی دیکھتے ہیں نظر ہم جدھر کریں

اُن کا خیال صر مرِ غم میں ہے وہ ذکر

یاد نبیؐ میں زندگی اپنی بسر کریں

دیتے ہیں اِنطراب میں ہم کو تسلیاں

ہم اپنے حالِ زار کی اُن کو خبر کریں

واللہ، ذرّے کو کریں وہ روکھ ماہتاب

اِک چشمِ اِلتفات شہؐ دیں اگر کریں

جلوے رسولؐ پاک کے بحق کی تجلیاں

اے کاش! آئے اُن کے مرے دل میں گھر کریں

ساجدؔ عطا نہیں ہمیں ہو توفیقِ ایزدی

ہر رات ذکرِ آپؐ کا ہم تا سحر کریں