← ذوقِ جمال
لے کے عصیاں کا بار پھرتے ہیں
انؐ سے ہم شرمسار پھرتے ہیں
ایک سے ایک برڈ⚠️ اُن کے غلام
ماہ اندر کنارِ⚠️ پھرتے ہیں
اُن کی گلیوں میں قیصر و سُلطان
رات دن بے شمار پھرتے ہیں
دستِ رحمت اُنہیں بچا لایا
وہ جو ساحل کے پار پھرتے ہیں
یا نبیؐ! اِک نگاہِ لطف و کرم
ہم بہت بے قرار پھرتے ہیں
آسمان و زمین پر ہر سُو
آپؐ کے جاں نثار پھرتے ہیں
اِک ذرا اِنتظار، اے ساجدؔ!
تیرے لیل و نہار پھرتے ہیں