ذوقِ جمال

خاتون جنت سلام اللہ علیہا

مقطع ↓

علوؐ مرتبہ صلِ علی ، خاتونِ جنت کا

ملائک سے بھی بھاری پردہ تھا، خاتونِ جنت کا

خردکی حد سے ہے یہ درجہ وراء، خاتونِ جنت کا

خدا کی ہے عطا ، رتبہ علا، خاتونِ جنت کا

زمیں میں کیا عرش بھی مدحت کا سرا خاتونِ جنت کا

نبی خاتونِ جنت کا ' خدا خاتونِ جنت کا

نفوس قدسیہ دُور سے تا پا سبز یزداں ہیں

عجب ہے فیضِ وہ سلسلہ خاتونِ جنت کا

پُچھپانے سے نہیں چیتے ، جہاں اِس گراس کے ہولے میں

یہ لعلی قفر ، رج ، بے بھا بھا خاتونِ جنت کا

جگر کے دردِ کی شانی دوا، اُن کی

رضا اللہ کی سرمایہ تھا خاتونِ جنت کا

ادائے شکر کو ساجدؔ کہاں سے زندگی لاؤں

کرم اِتنا بڑا مجھ پر ہُوا خاتونِ جنت کا