ذوقِ جمال

اُنؐ کو دل سے خدا، جدا نہ کرے

دل کوئی اور التجا نہ کرے

عمر بھر دیکھتا رہوں اُن کو

اُن کے در سے اُٹھوں، خدا نہ کرے

عشق کا عزم ہے بلند بہت

راہ آساں پہ یہ چلا نہ کرے

وہ سُخن دل کا خُوب سُنتے ہیں

کیا جو ذکرِ مُدّعا نہ کرے

دُور کچھ تو اُداسیاں ہوں گی

مُنکَب طیبہ کوئی روانہ کرے

جمع دیکھیں وجوب و امکاں کو

اِن کو کوئی بھی جدا نہ کرے

روبرو آپؐ ہوں مرے ہر دم

ساجدؔ اِس کے سوا دعا نہ کرے