ذوقِ جمال

نعتِ میلادِ نبیؐ کے ہم سنائے جائیں گے

کیف اور مستی کے ساغر ہم لائے جائیں گے

عطرِ برگ و گل سے ہم مہکائیں گے بزم کو

اس دیے سے سویے گھر گھر جلائے جائیں گے

بچھڑے نُور اپنے گھر کو ہم کریں تو ذکر سنیں

اور ذوالنورینؐ⚠️ کی باتیں ہم سناتے جائیں گے

ہمگری دہریں ہوگی نبیؐ کے دین کے

بگھڈے⚠️ حرص و ہوا کے ہم گِراتے جائیں گے

سرِ خوش و سرمستِ ہوں گے دل نبیؐ کے ذکر سے

سُویے منزل ہم قدم اپنے بڑھاتے جائیں گے

ہم خیالِ مصطفیؐ میں ڈوب کر شام و سحر

جانبِ حق ساجدؔ اپنی رہ بناتے جائیں گے