ذوقِ جمال

یہ روشنی کہاں کی ہے، یہ خوشبو کدھر کی ہے

یہ بارگاہ پاک مرے تاجورؐ کی ہے

شہرِ نبیؐ کی آب و ہوا، خُوب جاں نواز

خوشبو فضا میں آپؐ کی یہ خاکِ در کی ہے

یُوں زائرینِ غرق ہیں یاد رسولؐ میں

فکر اُن کو شام کی ہے یہ نہ کوئی سحر کی ہے

عالم میں ہے بے نظیر، کہاں ہے روضہ حضورؐ کا

اِس درجہ بُلندی⚠️ کہاں، ہے کہاں باموردر⚠️ کی ہے

اُن سے حضورؐ گذریں تو پرسنتے⚠️ ہیں وہ درود

شہ کے ادب کو طرز یہ سنگ و کُہر⚠️ کی ہے

پرتو تمام ہے کفِ پائے رسولؐ کا

جو روشنی جہاں میں ہے شمسِ و قمر کی ہے

بے ساختہ لکھوں میں آپؐ کی ساجدؔ آپؐ کی

سب بات مہربانی، خیرالبشرؐ کی ہے