ذوقِ جمال

مکاں لا مکاں انمی کے لیے

نشاں ، بے نشاں انمی کے لیے

یہ سارا جہاں انمی کے لیے

نہان اور عیاں انمی کے لیے

جگر اور جاں انمی کے لیے

یہ رگیں جان انمی⚠️ کے لیے

یہ دل اور جاں انمی کے لیے

یہاں اور وہاں انمی کے لیے

انمی پر صلوٰۃ پر سلام

زباں ہے روان انمی کے لیے

یہ باغ حسیں ، وہ عرش بریں

کراں تا کراں انمی کے لیے

یہ ساجدؔ انمی کا ہے خاکداں

یہ ہفت آسماں انمی کے لیے