ذوقِ جمال

عنوان: نظم

مقطع ↓

زندگی میں سے آسانی ہے

جس نے یہ بات سدا مانی ہے

ذاتی حق کی ہیں صفات و اسما

اس حقیقت ہی کی سلطانی ہے

روح ہے اور مثال و تاسوت⚠️

عقل نے خلق یہ پہچانی ہے

چھپ سے اس نسخہ کی ترکیب ہوئی

پس یہی رمزِ انسانی ہے

خلق و حق ، ذات کی دو شانیں ہیں

سِر اسرار یہ سُجھانی ہے

خلق و حق کے ہے میاں ذاتِ رسولؐ

یہ حقیقت کی گل افشانی ہے

مرتے میں نے یہ خدا ہیں ساجدؔ

اس کا ادراک مسلمانی ہے