ذوقِ جمال

حق کو ہے مقبول جس کی ہر دعا

فیضیاب اُس سے ہو ، بُوا⚠️ ہر بے نوا

دہر میں ہے مثل اُس کی ہر ادا

''ذات جس کی مظہر ذات خدا''

مرتے دم تک اُس کی مدحت کیجیے

خلوتیں جلوت⚠️ کے دفتر بھر گئیں

صورتیں کیا کیا دلوں میں بھر گئیں

مطوتیں⚠️ آقاؐ کی ہر سو بڑھ گئیں

''عرش پر جس کی سکائیں⚠️ چڑھ گئیں''

صدقے اس بازو و قوت کیجیے

شاد صحرا کے گلولوں پر ہو آنکھ

خندی⚠️ ، جنگل کے پھولوں پر ہو آنکھ

روشن ، اُلفت کے اُصولوں پر ہو آنکھ

''نیم و طیبہ کے پھولوں پر ہو آنکھ''

بلبلو! پاسِ نزاکت کیجیے