ذوقِ جمال
1

دفتر و پسر کی خوشحالی ہو

یہ سدا رہتی ہے حَسرت ماں کی

2

کیا وہ پُر دردِ و الَم تھا منظَر

اُف مجھے گھر سے وہ رخصت ماں کی

3

بیٹھنا مل کے وہ سب اپنوں کا

کیا ہوئی ہائے نظامت ماں کی

4

سارے اپنوں میں وہ باہم اُلفت

سارے اپنوں میں وہ وحدت ماں کی

5

وِردِ تیرا ہے درود و احمد⚠️

خاص تھی تیری یہ دولت ماں کی

6

اِک توہُم ہے ، کہاں ممکِن ہے

پھر سے آجائے وہ برکت ماں کی

7

اس کے امکان کی اِک صورت ہے

ہو عمل میں تیرے ، سیرت ماں کی