ذوقِ جمال

دفتر و پسر کی خوشحالی ہو

یہ سدا رہتی ہے حَسرت ماں کی

کیا وہ پُر دردِ و الَم تھا منظَر

اُف مجھے گھر سے وہ رخصت ماں کی

بیٹھنا مل کے وہ سب اپنوں کا

کیا ہوئی ہائے نظامت ماں کی

سارے اپنوں میں وہ باہم اُلفت

سارے اپنوں میں وہ وحدت ماں کی

وِردِ تیرا ہے درود و احمد⚠️

خاص تھی تیری یہ دولت ماں کی

اِک توہُم ہے ، کہاں ممکِن ہے

پھر سے آجائے وہ برکت ماں کی

اس کے امکان کی اِک صورت ہے

ہو عمل میں تیرے ، سیرت ماں کی