حرفِ نیاز

رنگِ جمال حُسنِ چمن نورِ ماہ ہو

دنیائے انس و جان کے تم بادشاہ ہو

اس سمت بھی توجّہ فسردہ ہے دل میرا

مجھ خستہ جان پر بھی کرم کی نگاہ ہو

محوِ جمال آنکھ ہو وقفِ نیاز دل

یوں عام مجھ پہ رحمتِ عالم پناہ ہو

پُر نور صبح ہو مری محشور میری شام

میری حریمِ جان تری جلوہ گاہ ہو

آلامِ روزگار سے گھبرا گیا ہے جی

فریاد سیّدی! تمہیں میری پناہ ہو

میری زباں پہ نامِ نبیؐ رات دن رہے

ہر سانس میری احمدِ سرائے الٰہ ہو

مدت ہوئی ہے ساجدؔ غمکیں ہے منتظر

اس کو بھی حکمِ حاضری بارگاہ ہو