← حرفِ نیاز
شاہِ کونین کا آستاں مل گیا
منزلِ کبریا کا نشاں مل گیا
مل گئی مصطفیٰ کی محبت مجھے
ایک مفلس کو گنجِ گراں مل گیا
اس عطا پر مری روح سرشار ہے
تیرا در سیّدِ انس و جاں اہل مل گیا
ہادیِ دو جہاں کی غلامی ملی
ہم کو رہبرِ شہرِ مرسلاں مل گیا
یادِ خواجہ نے تسکین بخشی مجھے
اب مداوائے قلبِ تپاں مل گیا
مجھ کو دونوں جہاں کی خوشی مل گئی
مجھ کو سرکار کا آستاں مل گیا
آج ساجدؔ خوشی مِل کی ہے اوج پر
شہرِ محبوبؐ کوں و مکاں مل گیا