حرفِ نیاز

مری نظر میں ہے محسنِ بہار صلِّ علیٰ

وہ مہرباں ہیں اُن کے نثار صلِّ علیٰ

جمالِ اُن کا ہے خوشیوں کا ایک سیلِ رواں

خیالِ اُن کا ہے وجۂ قرار صلِّ علیٰ

مری نظر میں ہے سلطانِ حُسن کا جلوہ

خوشا ہے دل بھی مرا نغمہ بار صلِّ علیٰ

مرے لبوں پہ نبیؐ کا ہے ذکرِ جاں پرور

سلام اُن پہ مرا بار بار صلِّ علیٰ

اُفق سے تاجِ اُفق اُن کی بادشاہی ہے

وہ کائنات کے ہیں تاجدار صلِّ علیٰ

مرے سفینۂ جاں کے ہیں ناخدا خواجہؐ

وہی سفینہ لگائیں گے پار صلِّ علیٰ

وہ مہرباں مجھے بھی بلائیں گے ساجدؔ

یا نبیؐ جو تم نے کیا انتظار صلِّ علیٰ