جانِ جہاں

سر جھکائے انبیا نے آپ کی تعظیم کو

حاضری دیتے ہیں قدسی دین کی تعلیم کو

ذاتِ حق دائم عیاں ہے مصطفیٰ ﷺ کے سامنے

اُن پہ قرباں کیجیے افلاک و ہفت اقلیم کو

دین کی نسلِ پاک سے منسوب ہیں شاہِ و رسل ﷺ

حق نے بخشا ہے شرفِ اعلیٰ یہ ابراہیم کو

دیدۂ بینائے دل کے سامنے ہے کیا نہاں

بندۂ حق کیا کرے گا جبر کی تقویم کو

آپ ﷺ کی موجودگی میں ہے زمیں خلد بریں

ہم بغیر اُن کے کریں کیا کوڑ⚠️ و تقسیم کو

آپ ﷺ ہی ذاتِ خدائے پاک کی پہچان ہیں

چھوڑنا ممکن نہیں ہے پیکرِ تسلیم کو

سیّد السّادات کعبۂ دل کے ہیں میرے ﷺ ہم⚠️

چشمِ جاں سے دیکھ ساجدؔ احمد ﷺ ہے مقیم⚠️ کو