جانِ جہاں

اک چشمِ کرم میری طرف سروِ عالم ﷺ

دل تیر الم کا ہے ہدف سروِ عالم ﷺ

مشکل ہے، سما جائے وہ تجزیہ⚠️ و بیاں میں

جو آپ ﷺ کو حاصل ہے شرف سروِ عالم ﷺ

سینے میں گلا آپ ﷺ کے، رکھتے ہیں خزینے

دل اُن کے ہیں انمول صدف سروِ عالم ﷺ

بڑھ کر ہے مجھے ساغرِ جمشید سے، واللہ

یہ آپ ﷺ کے کوچے کا خذف سروِ عالم ﷺ

بھر دیں میرا دامانِ مراد اے شہِ شاہاں ﷺ

بر نامِ علی شاہِ نجف سروِ عالم ﷺ

اللہ سے بخشش کی کریں میری شفاعت

حاضر ہوں یہ فردِ بکف⚠️ سروِ عالم ﷺ

اللہ، شہِ دیں ﷺ کی امامت ہو میسّر

ساجدؔ ہو خوشا، شامل صف سروِ عالم ﷺ