محرابِ جاں

جس کے دل میں رحمتہ للعالمین کی یاد ہے

وہ بفضلِ حق تعالیٰ کرب سے آزاد ہے

اُسوۂ حسنہ میں جس کی دخل گئی ہے زندگی

کامیاب و کامراں وہ خانماں آباد ہے

ہے وظیفہ جس کا سلطانِ دو عالم پر درود

ہے فغاں کب اُس کے لب پر اور کہاں فریاد ہے

شاہ کا نغمہ سرا ہے جو پُرندۂ⚠️ خوشنوا⚠️

دام سے بے فکر وہ یگانۂ صیّاد ہے

جب سے ہے پیوست دل میں اُن کی یاد اُن کا خیال

جاں مری خرّم و خورسند ہے دل شاد ہے

دین کا باغی امیرِ مومناں ہوا الاماں

یہ سراسر ظلم و استبداد ہے الحاد ہے

آ گیا ساجدؔ مہینۂ شاہ کے میلاد کا

مشرق و مغرب میں اک شورِ مبارکباد ہے