← محرابِ جاں
سیّدِ کونین کا عرفاں تھا جس کو نصیب
جو تصوّف کا تھا تاجِ شاہیاں⚠️ رخصت ہوا
یادِ حق میں رات دن رہتا تھا جو ڈوبا ہوا
دل تھا جس کا جلوۂ حق کا مکاں رخصت ہوا
نام تھا جس کے لبوں پر مصطفیٰ کا روز و شب
جو زمیں بھجر⚠️ کا تھا آسماں رخصت ہوا
کیا ہی تھی پُرکیف دائم اُس کی محفل کی فضا
ذاکروں کا وہ امیرِ کارواں رخصت ہوا
محوِ عشّاق تھا وہ پیکرِ لطف و کرم
جو محبّت کی حسیں تھا داستاں رخصت ہوا
اُس کے جاں و دل حضوری تھے شدّتِ⚠️ لولاک کے
بے نوا پر جو سدا تھا مہرباں رخصت ہوا
بچتے⚠️ نبی کی نظروں میں ہو گیا رخصت کمال
اپنے دل سے وہ مگر ساجدؔ کہاں رخصت ہوا