محرابِ جاں

لب پر ہے جب سے نامِ رسولِ کریم کا

کٹکا⚠️ نہیں ہے مجھ کو عذابِ جحیم کا

دل میں ہو جب نبیؐ کا تصوّر بپا ہوا

کس کو خیال آئے ریاضِ نعیم کا

اُترا خزاں کی رُت میں جو خوشبو کا قافلہ

چھوٹکا⚠️ ہے یہ مدینے کی یادِ نسیم کا

اُن کے پردے⚠️ ہیں مرے سارے معاملے

القصّہ ختم قصّہ ہوا خوف و بیم کا

شاہ و گدا عام ہے رحمتِ حضور کی

چھایا ہے ابر چار سُو لطفِ عمیم کا

رُوئے نبیؐ کی روشنی ہے گُل جہاں میں

جلوہ ہے شرق و غرب میں نورِ قدیم کا

ساجدؔ درِ رسولؐ پہ بنتی⚠️ ہیں نعمتیں

پہنچا ہوں میں بھی شکر ہے ربِّ عظیم کا