← محرابِ جاں
کاش بن جائے کوئی لطفِ نظر کی صورت
کعبے کے طوف و زیارت کے سفر کی صورت
یمن ہے اُن کے قدم کا یہ مدینے کی بہار
ذرّہ ذرّہ ہے ضیا پاشِ سحر کی صورت
روشنی شہرِ نبیؐ کی ہے طرب خیز بہت
ہے ماہِ شب کا مدینے میں سحر کی صورت
سربسر سایہ فشاں آپ کی ہے ذاتِ کریم
سارے آفاق پہ ہیں آپ شجر کی صورت
ہیں اُفق تا بہ اُفق آپ کے دلکش جلوے
آپ عالم میں ہیں غوبارِ⚠️ قمر کی صورت
جس میں آباد نہیں سرورِ عالم کا خیال
وہ دلِ زار ہے اُجڑے ہوئے گھر کی صورت
کون یہ آن بسا خانۂ دل میں ساجدؔ
ہو گئی اور ہی دیوار کی زر⚠️ کی صورت