← محرابِ جاں
بے تصوّر شدِّ⚠️ مومنین کا مقدّم ایسا
بے خبر جاں ہوئی دل ہوا ہم تم⚠️ ایسا
حق کے محبوب کے ہونٹوں کی وہ دلکش جنبش
عالم نے نہیں دیکھا تبسّم ایسا
اُن کی رافت سا خنک سایہ کوئی اور نہیں
زمزمِ لطف ساں اُن کے ہے کہاں شبنم⚠️ ایسا
شش جہت میں میں فقط ایک ہی جلوہ دیکھوں
بھول جائے مجھے اے کاش یہ "ہم تم" ایسا
دیکھیں حیرت سے مجھے روشن و تاباں چہرے
میری تقدیر کا روشن ہو یہ انجم ایسا
نہ رہے پیشِ نظر کوئی تعیّن کا حجاب
موجزن دل میں ہو مستی کا تلاطم⚠️ ایسا
ہے خودی میں یہ مری زندگی گزرے ہے⚠️ ساجدؔ
بھر دے دامانِ طلب چشمِ ترحّم ایسا⚠️