محرابِ جاں

جو محرمِ حقیقت خیرالوریٰ ہوئے⚠️

لاریب خوش نصیب وہ حق آشنا ہوا

محبوبِ کردگار حقیقت نما ہوا

کوئی کہاں مثالِ شہِ⚠️ دوسرا ہوا

سب کچھ خدا سے شاہِ رُسل کو عطا ہوا

ہے اپنے پاس سب یہ نبیؐ کا دیا ہوا

اُن کے عدو کا حال بہت ہی بُرا ہوا

اُٹھتا نہیں ہے اُن کی نظر سے گرا ہوا

اُن سا جہاں میں اور کہاں دوسرا ہوا

مظہر یہ اعظم اللہ کا ہوا⚠️

پردہ تھا لامکاں میں ہر اک اُٹھا ہوا

دیدار کا یہ حوصلہ اُن کا عطا ہوا

ساجدؔ ہے مجھ پر خاص کرم یہ حضور کا

روشن ہوا ہے پھر ہے دیا یہ بجھا ہوا