محرابِ جاں

وہ نقشِ⚠️ سرور سے سرشار ہو گیا

جس کو رُخِ رسول کا دیدار ہو گیا

ہے شہنشاہِ علم و فضل کا محبوبِ کردگار

در پر جو آیا محرمِ اسرار ہو گیا

خاکِ سیاہ نورِ نبیؐ سے ہے تابناک

تھا گردباد ابر⚠️ گہر بار ہو گیا

راہِ حیات میں تھے غم و رنج بے شمار

دستِ کرمِ نبیؐ کا مددگار ہو گیا

بچی⚠️ ہے چشمِ لطف سے قسمتِ بلال کی

گُل تھا غلام آج وہ سردار ہو گیا

صلِّی علیٰ نگاہِ کرم سے وہ جی اُٹھا

جو آپ کے جمال کا پیار⚠️ ہو گیا

ساجدؔ خدا کا شکر ہے طوفانِ باد میں

بیڑا مرا بفیض نبیؐ پار ہو گیا