← محرابِ جاں
یارب!
مقطع ↓ریشہ ہے برگِ لالہ کا یا نوکِ خار ہے
مشغول ذکرِ ذات میں ہر شاخسار ہے
آفاق پر محیط فضا تیرے لطف کی
ہر شے گئے⚠️ گرد تیرے کرم کا حصار ہے
رنگ و بہار چاندنی حکمت⚠️ شباب و نور
تیرے جمالِ ذات کی دلکش بہار ہے
گر تُو نہیں تو کون ہے میری نگاہ میں
یہ کون فوق و تخت و نشیمن و یدار⚠️ ہے
بابِ مثال دیدۂ دل پر کھلے گا کب
آنکھوں پھر اسی کا مجھے انتظار ہے
فکر و خیال ہے بس وراء⚠️ ذاتِ لازوال
بے حد عظیمت⚠️ قُلزمِ حق بے کنار ہے
یارب! طفیلِ مصطفیٰ ساجدؔ کو بخش دے
شام و سحر یہ بندہ ترا اشکبار ہے