محرابِ جاں

دیدہ⚠️ کو جس کا یہ دل تھا بے قرار آ ہی گیا

رُوکش⚠️ خُلد بریں اُن کا دیار آ ہی گیا

اُن کی چشمِ لطف نے بخشی مرے دل کو خوشی

خاطرِ غمگیں کو میرے اب قرار آ ہی گیا

بند کلیاں کھل گئیں دل کی بدفیضان⚠️ نبیؐ

مزرعِ دل کو پیامِ نو بہار آ ہی گیا

عمّ محبوبِ خدا حمزہ کی یاد آنے لگی

اُحد کا اب سامنے وہ کوہسار آ ہی گیا

پیکرِ رحمتِ خدائے پاک کی شانِ اتم⚠️

آخری پیغمبر پروردگار آ ہی گیا

سائے میں جس کے ہے جنّ و انس و فدی⚠️ کا جہاں

کاروانِ انبیا کا شہسوار آ ہی گیا

گنبدِ خضری کا نظارہ ہے ساجدؔ جاں فزا

دیکھ کر جس کو ہیں آنکھیں کامگار⚠️ آ ہی گیا