محرابِ جاں

رنگین فیضِ شہِ دین آفتاب ہوا

رُخِ حبیبِ خداوند لاجواب ہوا

بفیضِ ذکرِ نبیؐ گسل⚠️ گئی سیرہ⚠️ دل کی

بنامِ شاہِ رُسل دور اضطراب ہوا

نبیؐ کا پیکرِ دلکش تمام نورِ خدا

یہ جسمِ پاک جہانوں کی آب و تاب ہوا

المِ زدوں کا مربّی خدا کا پاک حبیب

رسولِ رحمتِ خلّاق کا سحاب ہوا

وہ جنّ و انس کا رہبر خدا کی شانِ اتم

جہاں کے سامنے حق کی مُصلّی⚠️ کتاب ہوا

ہے یادِ اُن کی مرے دل میں یوں طرب افزا

چمن میں جیسے شگفتہ کوئی گلاب ہوا

ہے کامگار جو اُن کا فقیر ہے ساجدؔ

غلام اُن کا دو عالم میں کامیاب ہوا