← محرابِ جاں
جہانِ دل مرا رحمت کے اب حصار میں ہے
نبیؐ کے لطف و عنایات سے جاں قرار میں ہے
کہاں ہے دل کے لیے اس سرور کا عالم
کہاں ہے کیف مدینے کی جو بہار میں ہے
نبیؐ کے در پہ پہنچنا نہیں مرے بس میں
فقط ارادہ مرا میرے اختیار میں ہے
غریب خانے پہ تشریف کب وہ لائیں گے
نگاہِ شوق مری کب سے انتظار میں ہے
اثر وہ آگ میں ہے اور نہ برق و طوفاں میں
غلامِ شاہ کی جو آتشِ شعلہ بار میں ہے
نظر سے شاہِ دو عالم کی ہو گا یہ کافور
غم و الم جو مرے خاطرِ فگار میں ہے
کھڑے ہیں زُہدی⚠️ و عطّار بھی وہاں خاموش
غریب ساجدؔ لب بند کس قطار میں ہے