← محرابِ جاں
چارہ اُن کے در پہ ہے ہر بے سر و ساماں کا
ہے وہیں ساماں دلِ بیمار کے درماں کا
وزن تھا میرے گناہوں کا بہت بھاری مگر
جس پہ نام اُن کا تھا وہ پلڑا جھکا میزان کا
پہلے بھی اُن کے کرم سے آرزو پوری ہوئی
پھر بھی وہ دامن بھریں گے لطف سے ارماں کا
بالمولیٰ⚠️ ہو گئی جس کو زیارتِ مرقبا⚠️
حال ہے کچھ اور ہی اس دیدۂ حیران کا
مرتبہ عالم میں اُن کا بے مثال و بے نظیر
کوئی پیغمبر نہیں ہم پایہ اُن کی شان کا
جس طرح کی تھی شبِ معراج حق نے بات
کہنے نہیں کھلتا کہ تھا موضوع کس عنوان کا
ہے مرے دل کی خوشی ساجدؔ نبیؐ کا ذکرِ پاک
فقط نام آپ کا سرمایہ میری جان کا