محرابِ جاں

آپ میں جلوہ نما جو ہے نظارا نور کا

شعلہ افروز تر درخشندہ ہوا⚠️ ہے طور کا

سعی لا حاصل طبیعاں⚠️ جہاں کی ہے تمام

آپ خود کرتے ہیں چارہ عاشقِ مجبور کا

سنتے ہیں وہ گوشِ حق سے اہلِ غم کی داستاں

فاصلہ اُن کو برابر ہے قریب و دور کا

ہر کوئی قرباں شے⚠️ کے گیسوئے تاباں پہ ہے

ہے فدائی ہر کوئی اُن کے رُخِ پُرنور کا

حل ہے ساری مشکلوں کا شاہِ مرسل پر درود

تجربہ ہے عمر بھر کا مجھ سے بے مقدور کا

اُن کے چہرے کی زیارت کی فقط ہے آرزو

شوقِ دل میں کچھ نہیں میرے بہشت و حور کا

ایک مدّت سے نظر محروم ہے دیدار سے

بہرِ حق ہو شوق پورا ساجدؔ رنجور کا