محرابِ جاں

سلطانِ دو عالم کا شہے⚠️ نام ملا ہے

کونین میں اس روح کو آرام ملا ہے

اللہ کا ہے شکر ہمیں حق کے نبیؐ سے

اللہ کی توحید کا پیغام ملا ہے

اللہ ہو⚠️ میری کو ملی چادرِ رحمت

مدحت کا اسے خوب یہ انعام ملا ہے

اللہ سے ملنے کو ملی راہ نبیؐ کی

قسمت سے ہمیں مذہبِ اسلام ملا ہے

ہے جو بھی غلام اُن کا ہمیشہ ہے وہ فائز

ہے جو بھی عدو اُن کا وہ ناکام ملا ہے

لاریب وہ سرشار ہے سرمست شب و روز

محفل سے شہِ دیں کی شہے⚠️ جام ملا ہے

ہے محوِ توفیقِ خدا نعت میں ساجدؔ

خوش بخت ہے کیا خوب اسے کام ملا ہے